ابنا: پلوٹونیم سے کثیرالہلاکت ہتھیار بنانے کے پروگرام کو ترقی دیتے ہوئے، اسلام آباد ہندوستان کے ساتھ عام ہتھیاروں کے مقابلے میں کم ہونے کے نقص کو دور کرے گا۔ پاکستان طیاروں کے ذریعے برتے جانے والے جوہری ہتھیار بنانے کے عمل کو چھوڑ کر وسطی فاصلے تک جوہری وارہیڈ لے جانے والے میزائلوں کی مقدار بڑھا رہا ہے۔ یہ ایک معیاری نئی پیشرفت ہے۔ اس مقصد کی خاطر سالانہ ڈھائی ارب ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ معاشی مسائل سے دوچار ملک پاکستان کے لیے یہ رقم بہت زیادہ ہے۔پاکستان میں ہتھیاروں مین استعمال کیے جانے کے قابل پلوٹونیم کی مقدار بڑھ کر 2750 کلوگرام ہو چکی ہے اور ہر سال اس میں ڈیڑھ سو کلوگرام کا اضافہ ہو رہا ہے۔ آخری عرصے میں پاکستان نے پلوٹونیم پیدا کرنے میں اضافہ کر دیا ہے۔ گذشتہ برس چین کی مدد سے پاکستان نے خوشاب، پنجاب میں چار جوہری ری ایکٹر نصب کیے ہیں۔ پاکستان کی جوہری استعداد میں اضافے کے عمل کو صرف ہندوستان کے ساتھ معاندت کے تناظر میں ہی نہیں بلکہ بھارت، پاکستان، چین دشوار تعلقات کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ معاشی سیاسی تحقیق کے مرکز کے ڈائریکٹر ولادیمیر یوسی ایو کہتے ہیں،"اس وقت پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھا رہا ہے لیکن یہ اس عمل کا جواب ہے جس پر بھارت کاربند ہے۔ دوسری جانب ہندوستان اپنے لیے پاکستان کی جانب سے نہیں بلکہ چین کی جانب سے خطرہ محسوس کرتا ہے، یوں بھارت، پاکستان، چین پر مشتمل مثلث کی معاندت جوہری ہتھیاروں میں اضافے کی بنیاد بنتی ہے۔ ان میں ہر ملک دوسرے ملک سے خطرے کے گمان میں اپنے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھا رہا ہے۔"اب یہ ایک روایت نہیں رہی کہ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے بعد آئے دن جوہری ہتھیاروں کی آزمائش کریں۔ پاکستان اور ہندوستان نے 1998مئی میں دو ہفتے کے وقفے کے بعد جوہری تجربے کیے تھے، جن کی وجہ سے وہ جوہری کلب کے رکن بن گئے تھے۔اس وقت پاکستان اور ہندوستان کے پاس جوہری ہتھیاروں کی مقدار تقریبا" یکساں ہے یعنی 100 سے 110 وارہیڈز۔ ساتھ ہی ان دونوں ملکوں نے نہ تو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور نہ ہی جوہری دھماکے نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔/110
19 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 383174
پاکستان نے ایسا کہیں ہلکا وار ہیڈ بنانے کی ٹھان لی ہے جس کا حجم کم ہو اور وہ میزائل کے ذریعے استعمال کیا جانا آسان ہو۔ اس بارے میں امریکی مجلّے " بلیٹن آف دی ایٹومک سائنتسٹ" میں بتایا گیا ہے۔